ابنا: جمعہ کو سینٹ پیٹرز برگ میں ایک بین الاقوامی معاشی فورم کو خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس یوکرین کے عوام کے انتخاب کا احترام کرتا ہے اور وہ صدارتی انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
روس کے صدر نے مزید کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ انتخابات کے بعد یوکرین میں حالات معمول پر آ جائیں گے اور ہمیں تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اندورونی قوت حاصل ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ روس خود کو باقی دنیا سے الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتا ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ متعدد منصوبوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس پر لگنے والی پابندیوں کے سلسلے میں پوتن کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کا مقصد کاروبار کے سلسلے میں روس کے مقابلے میں یورپ کو فائدہ پہنچانا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ وہ اب بھی یوکرین کے بحران کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی۔
یوکرین کے صدارتی انتخابات میں کل 21 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں سے ارب پتی کاروباری شخص، پیٹرو پوروشنکو اور سابق وزیر اعظم، یولیا ٹائموشینکو سر فہرست دکھائی دیتے ہیں۔
اگر اتوار کے الیکشن میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوتا تو اس صورت میں، 15 جون کو انتخابات کا دوسرا دور منعقد ہوگا۔
.......
/169